شیخ فیروز شہیدؒ بہرائچی جد امجد شیخ عبد الحق محدث دہلویؒ

شیخ فیروز شہید مصنف اخبار اخیار شیخ عبد الحق محدث دہلوی کے پر دادا تھے۔انکی مزار بہرائچ میں ہے۔ اخبار اخیار میں
شیخ عبد الحق محدث دہلوی نے آپنے خاندان کے حالات شیخ فیروز شہید کا ذکر کرتے ہوئے لکھا ہے کہ ملک موسیٰ کے کئی لڑکے تھے جن میں ایک کا نام شیخ فیروز تھا۔ شیخ فیروز میرے دادا کے حقیقی دادا تھے۔یہ شیخ فیروز تمام فضائل ظاہری و باطنی سے موصوف تھے۔اور دینی وکسبی نعمتوں سے مالامال تھے۔فن جنگ میں اپنی مثال نہ رکھتے تھے۔جنگی ترکیبوں میں اپنی قوت طبع اور سلیقہ کے لئے بے نظیر تھے۔علم شاعری م،دلیری ،سخاوت ظرافت ،لطافت،عشق ومحبت اور دیگر صفات حمیدہ میں یکتائے روزگار تھے۔نیز دولت و حشمت،عزت وعظمت میں شہرۂ آفاق تھے۔ہمارے گھر میں شریں کلامی ،ذوق و ظرافت آپ ہی کی وجہ سے پیدا ہوا ہے۔آپ سلطان بہلول کے دور حکومت کے ابتدائی زمانہ میں بقید حیات تھے۔آپ نے سلطان حسین شرقی کی آمد اور سلطان بہلول سے جنگ کا قصہ نظم کیا تھا۔ شیخ عبد الحق محدث دہلوی آگے لکھتے ہیں کہ یہ کلام ہمارے پاس تھا لیکن اس وقت نہیں ہے البتہ اس کے دو شعر یاد ہے جو سلطان بہلول کو حسین شرقی نے مخاطب کر کے کہے ہیں۔
ایا قابض شہر دہلی شنو
حیاتت چو خواہی ازیں جابرو
منم قابض ملک مار است ملک
خدا داد مارا خدا راست ملک

شہادت

شیخ فیروز 860 ہجری میں بہرائچ گئے تھے جہاں جنگ میں شہادت پائی اور وہیں دفن ہوئے،جنگ میں جاتے وقت آپ کی اہلیہ محترمہ نے کہا کہ امید سے ہوں آپ نے جواب دیا انشاء اللہ بیٹا پیدا ہوگا اور اس سے بکثرت اولاد ہوگی،پیٹ کے فرزند اور تم دونوں کو اللہ کے سپرد کیا جنگ میں نہ معلوم کیا صورت پیش آئے ۔غرض کہ اللہ نے ان کو بیٹا دیا جن کا نام سعد اللہ تھا اور سعد اللہ میرے حقیقی دادا تھے۔
موجودہ وقت میں آپ کی مزار بہرائچ کی مرکزی عیدگاہ سے لگی ہوئی ایک اونچے ٹیلے پر ہیں ۔جہاں پر ایک مسجد اور
شہر کا مرکزی قبرستان بھی ہیں۔

حوالہ جات

 اخبار اخیار

Advertisements

Shafi Bahraichi an forgotten poet of Bahraich

 

Shafi Bahraichi

Haji Shafi Ullah Shafi Bahraichi

Ahsasat-E-Faiz

Haji Shafiullah Shafi Bahraichi was born in 1902 at Mohalla Brahamnipura Chowk Bazar Bahraichi in the house of Haji Barati Miyan. He gained his education at home.He was counted in the reputed business man of city Bahraich.Shop of Shafi Sahab was a gathering place of literary ones/lovers.
Literary career
Shafi Bahraichi was the student of Hazrat Jigar Biswani , and friend of Shauq Bahraichi and Ra’fat Bahraichi. He got his verses amended with Jigar Biswani  through correspondence . The renowned persons of Bahraich city attended the meetings at his shop .Shafi was also the guardian of the literary magazine ‘Chaudahveen Sadi’ published from Bahraich .
Relation with eminent personalities
Shafi was also in friendship with Kaifi Azmi ,Shauq Bahraichi ,Ra’fat Bahraichi. When Kaifi Azmi arrived at Bahraich, he never forgot to visit Shafi’s Shop.He also had a deep friendship with Wasfi Bahraichi ,Dr.Naeemullah Khayali , Jamal Baba , Izhar Warisi , Mohsin Zaidi , Dr.Ibrat Bahraichi. and many more of his time.
Literary Work
Shafi Bahraichi had command over Hamd Na’at and Ghazal . His poetry works were got published in Monthly Shair Agra, Daily inquilab and monthly Chaudahween Sadi Bahraich .His grandson Faiz Bahraichi has published a book Ahsasat-e-Faiz it also contains some poetry of his grand father Shafi Bahraichi. This book Ahsasat-e-Faiz brought out in 2015.His works are safe in form of Manuscript.Doctor Naeemullah Khayali tells the story in his unpublished book, Shafi Bahraichi write  two publish  poetry collection, whose name is 1. Aina Sukhan and 2. Naat aur  Mankabat  Jalwa-e-Ghazi .
Death
Shafi Bahraichi died on July 06 1973 in Bahraich and buried in Beside of his father Haji Barati Miyan at Ground of Hairat Shah(Rh.) near Railway Crossing Dargah Shareef Bahraich.

Ek Sher by Juned Ahmad Noor

 

juned.poetry

ایک شعر کہنے کی کوشش

خون جنکا میری رگوں میں دوڑ رہا ہے
انکا قرض قطرہ بھر بھی اتارنہ سکا
جنید احمد نور
ख़ून जिनका मेरी रगों में दौड़ रहा है
उनका क़र्ज़ क़तरा भर भी उतार न सका
जुनेद अहमद नूर
کل عید کے دن اپنے اجداد کی قبروں پر جانہ ہوا زیر نظر تصویر میں میرے دادا کے دادا حاجی باراتی میاں نقشبندیؒ چونا والے کی مزار کی ہے۔سال میں ایک بار عید کے دن گھر کے تمام افراد ضرور جاتے ہیں اور ایصال ثواب کرتے ہیں۔
دل کو سکون ملتا ہے اپنے اجداد کو یاد کرکے کی ہم آج جو کچھ بھی ہیں سب انہیں کی محنت اور دعا کا حاصل ہے۔

Shah NaeemUllah Bahraichi

WP_20160220_17_20_07_Pro

شاہ نعیم اللہ بہرائچی کا مقبرہ

مولانا شاہ نعیم اللہ کی پیدائش 1740ء مطابق 1153ھ میں ہوئی تھی۔ ان کا مقام پیدائش شیخیاپورا نزد ملسری مسجد شہر بہرائچ ہے۔آپ کے والد کا نام غلام قطب الدین تھا۔علوم دینیہ حاصل کرنے کے لیے دہلی اورے لکھنؤ کے اسفار کیے۔
حالات

آپ مرزا مظہر جان جاناں کے خلیفہ تھے۔ آپ چار سال تک مرزا مظہر جان جاناں کی صحبت میں رہے ، مرزا مظہر جان جاناں آپ کے بارے میں فرمایا کرتے تھے کہ تمہاری (شاہ نعیم اللہ بہرائچی) چار سال کی صحبت دوسروں کی بارہ سال کی صحبت کے برابر ہے۔ مرزا مظہر جان جاناں آپ پر نہایت عنایت فرماتے اور فرماتے تھے کہ نور نسبت اور فیض صحبت سے عالم منور ہوگا۔شاہ نعیم اللہ کو مرزا مظہر سے بروقت عطائ اجازت و خلافت ہر سہ جلد مکتوبات قدسی امام ربانی مجددالف ثانی عطا کی اور فرمایا کہ یہ دولت یعنی مکتوبات شریف جو میں نے تم کو دیے کسی مرید کو نہیں دیے، مشائخ طریقت جو اپنے مریدوں کو خلعت خلافت دیا کرتے ہیں جو میں نے تم کو دیا ہے یہ سب سے بہتر ہے اس نعمت کا شکر اور قدر کرنا یہ تمہارے واسطے ظاہر اور باطن کا ایک خزانہ ہے اور اگر طالب جمع ہوا کریں اور فرصت ہوا کرے تو بعد عصر کے سب کے سامنے پڑھا کرنا اور بجائے مرشد اور مربی کے ہے۔آپ بکمال اخلاق حسنہ آراستہ تھے اور صبرمیں نہایت صبرو توکل سے اپنےاوقات یاد خدا میں بسر کیا کرتے تھے۔
مضامین بسلسلہ
شاہ نعیم اللہ بہرائچی کو شاہ غلام علی نے جامع معقول و منقول کہا ہے۔ 1772ء مطابق 1186ھ  میں مرزا مظہر جان جاناں کے ایک خلیفہ محمد جمیل دہلی سے لکھنو¿ آئے۔،مولانا نعیم اللہ نے تحصیل علم ظاہری سے فراغت حاصل کر لی تھی،اس لئے ان سے طریقۂ نقشبندیہ مجدیہ مظہریہ میں بعیت کی۔پھر 1775ء مطابق 1189ھ میں خود مرزا مظہر جان جاناں کی خدمت میں حاضر ہوئے اور چار سال ان کی خدمت میں رہ کر مقامات عالیہ پر پہونچے  اس مدت میں ان کے گھر سے جو خطوط جاتے تھے وہ انہیں خول کر نہیں پڑھتے تھے کہ کہیں ایسا نہ ہو کہ وطن اور اہل وطن کی محبت ان کے کار خیر میں فتور پیدا کرے ، خرقہ اجازت و خلافت حاصل کر کے وہ اپنے وطن لوٹے اور رشد ہدایت میں مشغول ہو ئے۔ شاہ نعیم اللہ نےے لکھنؤ کے ایک محلہ بنگالی ٹولہ میں ایک مسجد تعمیر کرائی تھی اور کچھ دنوں وہاں بھی قیام کیا کرتے تھے۔
تصانیف
شاہ نعیم اللہ بہرائچی مرزا مظہر جان جاناں کے خاص خلیفہ تھے۔آپ نے مرزا مظہر جان جاناں کے حالات پر دو کتابیں لکھی ہی۔بشارات مظہریہ اور معمولات مظہریہ ان میں مرزا مظہر جان جاناں کے خاندانی اور ذاتی حالات اور مشغولیتوں کے علاوہ مرزا مظہر جان جاناں کے معمولات کا تفصیل سے ذکر ہے۔ بشارات مظہریہ قلمی ہے اور 210 اوراق پر مشتمل ہے اس کا ایک نسخہ بر ٹس میوزیم (لندن) میں محفوظ ہے ، معمولات مظہریہ چھپ چکی ہے۔شاہ نعیم اللہ نے مرزا مظہر جان جاناںصاحب کے مکتوبات کا ایک انتخاب بھی رقعات کرامت سعادت کے نام سے تیار کیا تھا جو شائع ہو چکا ہے۔
وفات
شاہ نعیم اللہ بہرائچی کی وفات  26 مئی1803ء مطابق5 صفر المظفر1218ھ میں شہر بہرائچ میں ہوئی تھی۔آپ کی تدفین جہاں ہوئی وہ آج احاطہ شاہ نعیم اللہ (گیند گھر میدان) کے نام سے پورے شہر میں مشہور ہے۔اسی احاطہ کے ایک حصہ میں محکمہ تعلیم کے دفاتر اور ایک سرکاری نسوا ں انٹر کالج بھی قائم ہیں۔

Taken with Lumia Selfie

جنید احمد نور شاہ نعیم اللہ بہرائچی کے احاطہ شاہ نعیم اللہ میں واقع مزار کے باہر

حوالہ جات
مقامات مظہری از شاہ غلام علی
معمولات مظہریہ

مشائخ نقشبندیہ مجددیہ از مولانا محمدحسن نقشبندی مجددی

مرزا مظہر جان جاناں اور ان کا کلام مطبوعہ1979 دارالمصنفین اعظم گڑھ

Muslim Saleem

Muslim Saleem for Urdu Wikipedia

Muslim Saleem

Muslim Saleem (Urdu: مسلم سلیم ) is an Urdu poet and journalist. He was born in 1950 at Shahabad, Hardoi, Uttar Pradesh India, brought up in Aligarh, and educated at Aligarh Muslim University. He is the son of the well-known Urdu poet Saleem Wahid Saleem. He has lived in Bhopal, India since 1979. He began his career as a journalist on the Urdu-language newspaper Aftab-e-Jadeed. He has also worked in Hindi-language and English-language journalism, most recently as the chief copy editor of the Hindustan Times in Bhopal. He is the author of Aamad Aamad, a compilation of his poetry.

Several of his couplets are well known in the Urdu language. He won the Yaad-e-Basit Tarhi Mushaira, a poetry competition, in 1982. His ghazals and short stories have been published in Urdu-language publications Shair, Ahang, Asri, Adab, Agai, Naya Daur, Sada-e-Urdu, Nadeem and other periodicals and magazines.

Muslim Saleem is currently compiling a massive database of poets and writers of the Urdu language, both historic and currently active. His work in service of the Urdu language was recognized in a special 2011 edition of the periodical Abadi Kiran, devoted to his work.

Well-known couplets by Muslim Saleem include:

1. Kaun hai is shahr mein mujh se zyaada baakhtawar Mujh ko saare bewafaaon ke patey maloom hain
2. Deo qaamat wo shajar jab tez aandhi mein gira Pasta-qad jitne they paudey sab qad-aawar ho gaye
3. Taqdeer ki mujh se yunhi takraar chalegi Main saaye mein baithhoon gaa to deewar chale gi