Poets And Writers of Bahraich By Faranjuned


Urdu Wikipedia Articales about Poet And Writers of Bahraich By Juned Ahmad  Noor (Faranjuned)

حکیم محمد اظہر وارثی

Tazkira_Shoara-e-Uttar_Pradesh_-_Volume-010_Rekhta_-_2017-04-12_11.09.12

Hakeem Mohammad Azhar Warsi

حکیم محمد اظہر وارثی کی پدائش 1905ء میں شہر بہرائچ کے مشہور حکیم و روہانی بزرگ حکیم محمد مظہر وارثی کے گھر میں ہوئی۔

حالات

حکیم محمد اظہر وارثی نے علمیت کی تعلیم کانپور کے مدرسہ مدرسہ الٰہیات کانپور سے حاصل کی جہاں آپ کے استادوں میں مولانا آزاد [2]بھی شامل تھے۔حکیم اظہر صاحب کو شاعری کا شوق تھا اور آپ کو مشہور مجاہد آزادی و شاعر انقلاب حسرت موہانی[3] سے شرف تلمذ حاصل تھا۔آپ شہر بہرائچ کے مشہور حکیم تھے اور کامیاب شاعر بھی تھے۔

ادبی خدمات

حکیم اظہر وارثی کو ادب سے گہرا لگاؤ تھا۔حکیم اظہر صاحب نے حمد نعت میں خاص طور پر شاعری کی۔آپ کا کوئی بھی مجموعہ کلام شائع نہ ہو سکا۔آپ مشہور شاعر اظہار وارثی کے والد اور اثر بہرائچی کے چچا تھے۔ حکیم اظہر ؔ وارثی کا وصفیؔ بہرائچی،رافعتؔ بہرائچی، شوق ؔبہرائچی، ڈاکڑ محمد نعیم اللہ خاں خیالیؔ،حاجی شفیع اللہ شفیع ؔبہرائچی بابو لاڈلی پرشاد حیرتؔ بہرائچی، بابا جمال ؔ، واصف ؔالقادری نانپاروی،ایمنؔ چغتائی نانپاروی،محسن ؔزیدی،سید ساغر ؔ مہدی،عبرت ؔ بہرائچی،اثر بہرائچی ، وغیرہ سے گہرا تعلق تھا۔

وفات

حکیم اظہر وارثی کی وفات آپ کی رہائش گاہ محلہ براہمنی پورہ شہر بہرائچ میں 12 جون1969ء[4] میں ہوئی تھی۔ آپ کی تدفین شہر بہرائچ میں ہوئی تھی۔جس میں کثیر تعداد میں عوام نے شرکت کی تھی۔

نمونہ کلام

اللہ نے دل فرینے زندانے زندگیچھٹے تو مرہی جائے اسیرانے زندگی
عریشے بندگی سے لے کے تا ارش خداوندییہ سارا فصلہ اک لغدش گامے جنوں نکلا

 

******************

رافت بہرائچی

WP_20170525_11_07_31_Pro

Munshi Yaar Mohammad Khan Rafat Bahraichi

نام* محمد یار خاں 
دیگر نام * منشی یار محمد خاں
تخلص *رافت ؔ بہرائچی
پیدائش* 1902 ء 
والد * معصیب خاں
تلمذہ * جگر بسوانوی

وفات* 27مارچ مطابق1961 9 شوال 1380ھ

مدفن* چھڑے شاہ تکیہ بہرائچ
منشی محمد یار خاں رافت ؔ بہرائچی کی پیدائش 1902ء میں صوبہ اتر پردیش کے مشہور ادبی شہر بہرائچ میں ہوئی تھی۔رافت بہرائچی کے والد کا نام معصیب خاں تھا ۔
** حالات اور ادبی خدمات**
منشی محمد یار خاں رافت ؔ بہرائچی شہر بہرائچ کے مشہور منشی ہونے کے علاوہ مشہور استاد شاعر بھی تھے ۔نعمت بہرائچی اپنی کتاب تذکرۂ شعرائے ضلع بہرائچ میں لکھتے ہیں کہ رافت بہرائچی جگر بسوانی کے شاگرد تھے،اور داغ دہلوی کی تقلید میں شعر کہتے تھے۔آپ کی زبان صاف اور شستہ کلام آراستہ و سنجیدہ ہے۔آپ مشہور شاعر سید ریاست حسین شوقؔ بہرائچی کے ہمعصر تھے ۔انجمن ریاض ادب شہر بہرائچ کے صدر تھے۔رافت بہرائچی کا ایک شعری مجموعہ انکی وفات کے تیس سال بعد انکی دختر جوہی ؔ نے ناز و نیاز کے نام سے شائع کیا جو چار عنوانوں سوز دل،ساز دل سوز ہستی،ساز ہستی پر مشتمل ہے۔ساز دل قطعات اور سوز ہستی مخمسات پر مبنی ہے جبکہ سوز دل میں رافت صاحب کی دور اول کی غزلیں اور ساز ہستی میں دور سانی کی غزلیں شامل ہیں جنھیں باعتبار ردیف الف تا یا کی ترتیب سے شامل کیا گیا ہے۔ 
** ادبی شخصیات سے رابطہ** 
رافت بہرائچی کے ہمعصر شاعروں میں شوق بہرائچی،کیفیؔ اعظمی ، شہرت بہرائچی،شفیع ؔ بہرائچی، وصفیؔ بہرائچی،ڈاکڑ نعیم اللہ خاں خیالیؔ ،بابو لاڈلی پرساد حیرتؔ بہرائچی ، بابا جمال بہرائچی،بابو سورج نرائن سنگھ آرزوؔ بہرائچی وغیرہ اہم تھے۔

**نمونہ کلام**

رافت ازل سے ساتھ ہے ناز و نیاز کاان کی جدھر خوشی ہے ادھر دیکھتا ہوں میں

 

قطعہ

لاکھ رخ پر نقاب ہے پیارے   پھر بھی تو لا جواب ہے پیارے
بات رافتؔ کی بے دلیل نہیں   آفتات آفتاب ہے پیارے

 

بے پردہ تو جو جلوۂ جانانہ ہو گیا   حیراں تھا پہلے اب تو میں دیوانہ ہو گیا
دیرو حرم میں آپ کو دیکھ ا تھا جلوہ گر   کیا جانے کس طرف دل دیوانہ ہو گیا
خود راز نے نقاب اٹھا دی حیات کی   صدر شک طور اب میرا کاشانہ ہوگیا
اب تم ہو اور شمع بھی ہے کر لو فیصلہ   پروانہ کس کو دیکھ کے پروانہ ہوگیا
ترے سوا کسی کے نہ آگے جھکے گا سر   مرا مزاج عشق میں شاہانہ ہو گیا
بیکار لوگ دیتے ہیں الزام کفر کا   میں کچھ سمجھ کے ساکن بتخانہ ہو گیا
ہنس ہنس کے پائے یار پہ رافتؔ نے دیدی جان   لو آج ختم عشق کا افسانہ ہوگیا

 

*******************

واصف القادری Wasiful-Qadri

واصف ؔالقادری کی پیدائش 1917ء میں بہرائچ ضلع کی ریاست نانپارہ میں محلہ توپ خانہ ،نانپارہ میں ہوئی۔ آپ کے والد مولانا حاجی حافظ سید مقصود علی خیرآبادی درگاہ غوثیہ میں معتمد کے عہدے پر فائز تھے۔ آپ کے والد ایک مشہور بزرگ کی حیشیت رکھتے تھے۔ آپ نے کئی حج کیے تھے اور عرصہ دراز تک مسجد نبوی میں اذان دینے کا فریضہ انجام دیتے رھے اور وہیں علم دین حاصل کر کے سند حاصل کی اور وہاں کے بزرگوں سے فیوض وبرکات حاصل کیں ۔واصف صاحب کا نسبی تعلق سندیلہ کے سلسلہ قادریہ نقشبندیہ کے صوفی بزرگ سید مخدوم نظام سے تھا۔[1]آپ کا سلسلہ مخدوم الہدایہ قدس سٗرہ سے ملتا تھا۔آپ کے خاندان میں علم و فضل شعروادب اور تصوف کا شروع ہی سے چرچا رہا اور آپ کے خاندان میںمشاہیر علم و ادب پیدا ہوتے رہے[2] بعد میں آپ کے والد نے نانپارہ میں سکونیت اختیار کر لی ۔ واصف القادری کو بچپن سے ہی گھر میں دینی علمی ماحول ملا ،جس نے آپ کی ذہن کو روشنی،قلب کو تازگی اور روح کوجلا بخشی ۔ واصف صاحب کی ابتدائی دینی تعلیم حاصل کی اور اس سے پہلے کہ اعلیٰ تعلیم کی طرف رخ کرتے والد کا انتقال ہو گیا واصف القادری کی عمر اس وقت 13 سال کی تھی۔والد کی بے وقت کی جدائی نے بچپن میں ہی فکر معاش سے دو چار کر دیا لیکن بلند حوصلوں سے سر بلند کر لیا ۔بعد میں واصف صاحب نے حکمت کا پیشہ اختیار کیا۔ عوام میں آپ کو حکیم کی حیثیت سے پورے شہر میں مشہور ہو گئے۔لیکن آپ ایک اچھے شاعر کے طور پر بھی مشہور تھے ۔

ا دبی خدمات

واصف ؔالقادری صاحب نے ابتدائے شاعری میں اصغر رشیدی نانپاروی تلمذہ پیارے صاحب رشیدؔ لکھنؤی[3] سےمشورہ شخن حاصل کیا بعد میں مذہبی شاعری کی شاعری کی طرف رجحان ہوا اور مشق سے کلام میں پختگی محسوس کرنے لگے تو سلسلہ ختم کر کے اپنی ذاتی صلاحیتوں کو رہنما بنا لیا۔واصف القادری کے بارے میں بہت ہی کم لوگ جانتے ہیں کہ آپ صوفیانہ رنگ میں شعر کہتے تھے۔ واصف االقادری نے نعت کے ،غزل ،رباعیات ، قظعات اور مثنوی وغیرہ سبھی اصناف میں کلام لکھے ۔ ضلع بہرائچ کے نامور ادیب و شاعر شارقؔ ربانی آپ کے کلام کے بارے میں اپنے مضمون میں لکھتے ہے کہ واصف القادری کے کلام کا مطالعہ کرنے پر حسن ظن اور مبالغہ سے قطع نظر اس بات کا اعتراف کرتے ہیں کہ وہ ہر لحاظ سے ایک شاعر تھے۔ان کی شاعری فن کے میعار پر پوری اترتی ہے۔ واصف صاحب کے کلام میں وہ تمام خوبیاں پائی جاتی ہیں جو ایک اچھے شاعر کے لئے ضروری ہیں۔ اشعارحسن بیان کا دلکش نمونہ ہیں لیکن وہ مقصد کو بھی ہاتھ سے نہیں جانے دیتے ۔واصف صاحب کے کلام میں فکر و فن کا خوبصورت توازن اور خیال و بیان کا حسین امتزاج ملتا ہے ۔مگر افسوس کہ واصف القادری صاحب نے اپنی تمام عمر گوشہ گمنامی میں گزری ۔واصف صاحب نہ تو محفل شعروشخن کے حقیقی چراغ بنے اور نہ ہی کبھی انکی شہرت کا ستارہ چمکا ۔ واصف صاحب ایک شاعر ہونے کے ساتھ ساتھ ایک اچھے انسان ، مایاناز استاد،خلوص کے پیکر ، ہمدردی کا مجسمہ ،محبت کا دریا اور انسانیت کی جیتی جاگتی تصویر تھے۔ان کی شخصیت دل نوازی وپاکیزگی ان کی شاعری میں بھی اتر آتی تھی۔نعتیہ اشعار میں حضورﷺ سے والہانہ عشق کی جھلک ملتی ہے۔ آپ کے 3 شعری مجموعہ شائع ہوئے 1.مجاز حقیقت 2.تجلیات حرم 3. عزم وایثار خیرآباد کے مشہور شاعر نجم خیرآبادی آپ کے حقیقی بہنوئی تھے۔نیر خیرآبادی،ریاض خیرآبادی، مضطر خیرآبادی،بسمل خیرآبادی وغیرہ آپ کے خاندان سے تعلق رکھتے تھے۔

ادبی شخصیات سے رابطہ

خیرآباد کے مشہور شاعر نجمؔ خیرآبادی آپ کے حقیقی بہنوئی تھے۔نیرؔخیرآبادی،ریاضؔ خیرآبادی، مضطر ؔخیرآبادی،بسملؔ خیرآبادی وغیرہ آپ کے خاندان سے تعلق رکھتے تھے۔ نانپارہ کے شاعر شارقؔ ربانی کے والد ٹھاکر عبدالرب صاحب آپ کے دوست تھے ۔ شفیع بہرائچی محمد نعیم اللہ خیالی وصفی بہرائچی عبرت بہرائچی ،جمال بابا، ایمن چغتائی نانپاروی وغیرہ سے آپ کا گہرا رابطہ تھا۔ قمر گونڈوی اور نیپال کے مشہور شاعر جناب حاجی عبدالطیف شوقؔ نیپالی آپ کے شاگرد ہیں۔ آپ کے بہت سے شاگرد ملک نیپال اور نانپارہ میں ہیں۔

وفات

عبدالوارث مشہود علی تخلص واصف ؔ القادری کی وفات 4 نومبر 1984ء کو نانپارہ میں ہوئی۔ آپ کی تدفن نانپارہ میں ہی ہوئی۔

نمونہ کلام

نبی کی محبت میں کیا کیا بنوں گا   تماشائی بن کر تماشا بنوں گا
مجھے بھی لے جا مدینے کے راہی   تری خاک نقش کفِ پا بنوں گا
کبھی جذب کر لیں گی امواج رحمت   کبھی بڑھ کے قطرہ سے دریا بنوں گا
کبھی وقف نظارہ ہوں گی نگاہیں   کبھی بے نیاز تمنا بنوں گا
مدینے کے ذروں کو حاصل بنا کر   درخشاں درخشاں ستارہ بنوں گا
تجھے خار طیبہ میں آنکھوں میں رکھ کر   بہار گل دین و دنیا بنوں گا
اگر بن سکا تو بہ قید محبت   محمد کے غم کا فسانا بنوں گا
کبھی سامنے ہوں گے انوار احمد   میں واصفؔ کبھی رشک موسیٰ بنوں گا

حوالہ جات

ڈاکٹر محمد نعیم اللہ خیالیؔ

Dr.Mohammad NaeemUllah Khan Khayali

Dr.Mohammad NaeemUllah Khan Khayali

 

ڈاکٹر محمد نعیم اللہ خیالیؔ کی پیدائش 15 اپر یل 1920ء میں شہر بہرائچ کے محلہ قاضی پورہ میں خان عبداللہ کے یہاں ہوئی ۔آپ کے والد محترم شہر کے زمینداروں اور مجاہد آزادی کے صفِ اوّل کے رہنماؤں میں تھے ۔آپ کے گھر میں دینی ماحول تھا ،آٓپ کے والد حضرت شاہ فضل الرحمٰن گنج مُرادآبادیؒ سے بیعت تھے ۔ڈاکڑ خیالی ؔ بعمر ۱۶ سال 1936ء میں شوقیہ طور پر ایک بزرگ حضرت سید مرحوم شاہ پیشاوری ؒ سے سلسلہ قادریہ مجدّدیہ میں بیعت ہو گئے،کتب درسیہ میں خلاصہ کیدانی اور قدوری کا درس بھی ان سے حاصل کیا ۔1938ء میں میں آپ کے شیخ پیشاور میں رحلت کر گئے۔اگلے سال1939ء میں ابتدائی عربی و فارسی ادب و طب یونانی کے اُستاد حکیم صاحب بھی انتقال فرما گئے ،جنکا آپ پر گہرا اثر تھا،جس سے آپ محروم ہو گئے ۔اگست 1940ء میں والد محترم کا بھی انتقال ہو گیا اس طرح لگاتار ۳ سالوں میں روہانی،علمی اور جسمانی سر پرتوں کا سایئہ شفقت سےمحروم ہو گئے ۔خیالی صاحب اسکولوں کالجوں کی زندگی سےمحروم رہے لیکن علم و ذکاء اورعقل و ادراک کے خالق نے آپ کو وہ استعداد،اہلیت اور عرفان و شعور عطا کیا جس کی بدولت خیالی صاحب روایتی مدرسوں اور رسمی کالجوں اور یونیورسٹیوں میں قدم رکھے بغیر ہائی اسکول سے لیکر ایم۔اے۔تک سارے مدارج و مراحل پرائیوٹ امیدوار کی حشیت سے طے کئے ان کے علاوہ منشی کامل ،دبیر کامل ،فاضل طب وغیرہ کے امتحانات بھی نمایاں پوزیشن سے پاس کئے ۔

ا دبی خدمات

خیالی صاحب کوعربی ،فارسی،ہندی،اردو،تامل،تیلگو،بنگلہ کے علاوہروسی ،فرنچ،جرمن،انگریزی ، چینی،ترکی اور لاطینی زبانوں میں بھی کافی عبور تھا۔

لسانیات کے علاوہ ایلوپیتھی،طب یونانی،آیورویدک طریقہ علاج میں عملی طور پر زبردست مہارت تھی ،لیکن آپ نے علمی اور ادبی ذوق کی پرورش اور تعلیم و تدریس کے جذبات کے پیش نظر پیشۂ معلمی کا انتخاب کیا اور 1956ء سے 1980ء تک آزاد کالج بہرائچمیں اردو اورعربی کا درس دیتے رہے ۔ آخر میں کچھ وقت کے لئے کسان ڈگری کالج میں بحیسیت پروفیسر اردو تقرر ہو گیا۔سبکدوش ہونے کے بعد تصنیف و تالیف کے کاموں میں لگ گیے، اور “ادارہ لسانیات ” اور ” ادارۃ المصنفین” کا قیام کیا ۔ڈاکٹر خیالی صاحب کا ایک تاریخی کام حضرت شاہ ابوالحسن زید فاروقی کی فارسی کتاب “مناہیج السّیر “کا اردو ترجمعہ بنام “مدارج الخیر” کے کیا جو تصوف کی ایک اعٰلی درجہ کی کتاب ہے اور سلسلہنقشبندیہ مجدّدیہ کے راہ سلوک پر مستند کتاب کی حیثیت رکھتی ہے۔خیالی صاحب نے لسانیات میں ایک عظیم کام انجام دیا ہے ۔ آپ نے “اردو کی بین الااقوامی حیثیت” پر کئی کتابے لکھی ہے ۔خیالی صاحب کے ملک اور بیرون ملک کے ادبی و تنقیدی رسائل و جرائد میں تاعمر مضامین اور مقالے شائع ہوتے رہے جن کا کوئی شمار نہیں ۔آپ بہرائچ سے شائع ہونے والے ماہنامہ “چودھویں صدی” کے با نی اور مدیر تھے ۔

سماجی خدمات

لسانیات کے علاوہ ہومیوپیتھی،یونانی،آیورویدک طریقہ علاج میں عملی طور پر زبردست مہارت تھی ،اور اس فن کے ماہر افراد سے استفادہ کرتے رہے اور پورے شہر میں ہومیوپیتھی کے ایک مشہور طبیب ہوئے۔

وفات

31 دسمبر 1991ء کو آپ کا بہرائچ میں انتقال ہوا،اور تدفن احاتہ شاہ نعیم اللہ ؒ (خلیفہ حضرت مرزا مظہر جان جاناں ؒ  میں ہوئی ،جس میں شہر کے تمام بہت سے لوگوں نے سرکت کی تھی۔

Abdur Rahman Wasfi Bahraichi

wasfi Bahraichi

Abdur Rahman Khan Wasfi Bahraichi

 

 
Wasfi Bahraichi
Wasfi Bahraichi’s photos and poetry with his book’s afkaar e wasfi’s cover page
 
 

                                                                                   عبدالرحمن وصفی بهراچي
Abdur Rahman Wasfi Bahraichi
Born on 22/October/1914 as Islamic calendar 1/Sawwal/1332 hijri at
Mohalla MeeraKhel Pura in the house of Hafiz Abdul Qadir and Mrs. Maqbool Begum.
Father name : Hafiz Abdul Qadir .
Mother name : Mrs. Maqbool Begum .
Teacher name : Molvi Moharram Ali .
Education :Farsi and English .
Work : Business
Notable Work : Afkaar e Wasfi
Died 13 / April / 1999 as Islamic calendar 25/Sawwal/1419 hijri
he was a great poet of our city bahraich. 
bahraich ke naamwar shayar janab ibrat bahraichi sb ke chacha aur khayali sahab k bhai ĺagte hai aap ek ustaad shayar hai aap ke jo bhi shagird hai woh aap ke naam abdur rahman ki nisbat se apne naam ke sath rahmani zaroor lagate hai  
you can read his book Afkaar e Wasfi online on given link plz click here .Afkaar e Wasfi online 

عبدالرحمن خاں وصفیؔ بہرائچی ضلع بہرائچ کے ایک مشہور استاد تھے۔جناب کی پیدائش 22 اکتوبر، 1914ء کو شہر کے محلہ میراخیل پورہ بہرائچ میں ہوی۔آپکے والد کا نام حافظ عبدالقادر اور والدہ کا نام محترمہ مقبول بیگم تھا۔

حالات

وصفی بہرائچی کے مورث اعلیٰ اللہ داد خاں کے والد۔ دور مغلیہ میں کابل کے سرحدی علاقہ وزیرستان حسن خیل ہندوستان وارد ہوے خاندان کےبعض فرد ملیح آباد اور بعض فرد مرادآباد میں سکونیت لےلی۔ آپ کے اجداعلیٰ مولوی ضامن علی خاں “انیق بہرائچی”بہرائچ تشریف لائے اوریہیں کے ہو کے رہ گے۔انیق بہرائچی صاحب بیاض اور صاحب کتاب شاعر تھے۔ انکا سا را علمی اثاثہ ضائع ہوچکا ہے صرف دو مطبوعہ کتابیں مل سکیں جو ابتک محفوظ ہیں۔ ایک کا عنوان “مناقب چار یار” اور دوسری فارسی میں ہے اس کے علاوہ کچھ قلمی نسخےبھی ہیں۔

ادبی خدمات

1940ءمیں ایک آل انڈیا طرحی مشاعرہ سے وصفی صاحب کاادبی سفر شروع ہوا، جہاں انھوں نے اپنی پہلی غزل پڑھی تھی۔وصفی صاحب کا اصل میدان سخن نعت گوئی ہے۔ آپ اپنی تصنیف افکار وصفی میں اپنے بارے میں لکھتے ہیں کہ جہاں تک مزاج غزل کا تعلق ہے وہ میرےمزاج سےمطابقت نہیں رکھتا۔ چنانچہ ناظرین کرام دیکھیں گےزیر نظر مجمو عہ میں زیادہ تر اشعارتصوف یا اصلاحی رنگ میں ہیں۔میں نے شاعری کو اپنا پیشہ نہیں بنایا بس اپنےذوق کی تسکین کے لئےشعر کہے ہیں۔ ڈاکڑمحمدنعیم اللہ خاں خیالی آپکی کتاب “افکار وصفی” میں اپنے مضمون میں لکھتے ہیں کہ برادر گرامی جناب وصفی ایک شستہ و سنجیدہ شاعرانہ ذوق کے حامل ہیں۔ جوبازار کا خریداہوامال نہیں بلکہ موروثی جائداد ہے اور اس پر حق مالکانہ رکھتےہیں۔آپ کے پردادا حضرت ضامن علی خاں انیق تو جناب میر انیس کے ہمعصرتھے۔ ان کا اکثرفارسی اور اردوکلام بشکل ممطبوعہ و مخطوطہ موجود ہے۔ اسی لئےوصفی صاحب نے اگرچہ باقاعدہ کسی کی شاگردی اختیا رنہیں کی مگر وراثتہ جو مذاق سخن اس میں پختگی ہے ,وقار ہے,ایک اندازہے,ادائیگی کا بانکپن ہے,ڈھب سے بات کہنے کا قرینہ ہے,چنانچہ فرماتےہیں ……..

قدم جو اٹھاوہ اٹھا بانکپن سے
سلیقہ ملا یہ مجھےاہل فن سے

یہں بلکہ وہ ایک رنگ اور دوسرے رنگ کی تمیز بھی رکھےہیں چاہے یہ فرق خود اپنےکلام ہی میں کیوں نہ واقع ہوگیا ہو.دیکھئے یہں نہیں بلکہ وہ ایک رنگ اور دوسرے رنگ کی تمیز بھی رکھےےہیں چاہے یہ فرق خود اپنےکلام ہی میں کیوں نہ واقع ہوگیا ہو۔دیکھئے…..

وصفیؔ اب اپنے رنگ میں پڑھئے کوئی غزل
ہر شعر آج سب کو برنگ دگر ملا

وصفی صاحب پسندیدہ مشغلئہ شخن نعت گوئی ہے.جناب کی ساری شاعری میں یہ خاص چیز ہے.جس میں فکر کی. پاکیزگی جذبات کی گیرائی نظر کی بلندی آداب پیش کشی۔اظہار شوق کا لسلیقہ.لطف زبان .نفاست بیان وغیررہ قابل داد ہے۔

ادبی سخصیات سے رابطہ

عبد الرحمن خاں وصفی ؔ بہرائچی شہرو ضلع بہرائچ کے مشہور استاد شاعر تھے ۔آپ کے دادا ضامن علی خا ں انیقؔ بہرائچی میر انیس[5] کے ہم عصر شاعر تھے اور صاحب دیوان شاعر تھے ۔وصفی صاحب کے بھائی ڈاکڑ نعیم اللہ خاں خیالی بھی ضلع بہرائچ کے مشہور ماہر لسانیات ہونے کے ساتھ ساتھ تین درجن سے زیادہ کتابوں کے مصنف تھے۔وصفی صاحب کا ضلع بہرائچکے تمام ادیبوں اور شاعروں سے گہرا تعلق تھا ۔ آپ حاجی شفیع اللہ شفیع ؔ بہرائچی کے گہرے دوست تھے اور روز شام کو شفیع صاحب کی دوکان سنگم ہوٹل پر آتے تھے جو ہر شام کو ادبی محفل کا مقام تھا جہاں بیٹھ کر وصفی صاحب ، ساغر مہدی ،ااظہار وارثی، عبرت بہرائچی اپنے کلام کو ایک دوسرے سے ساجھا کرتے تھے۔ ،وصفی صاحب کا رافعت بہرائچی، شوق بہرائچی،بابو لاڈلی پرشاد حیرتؔ بہرائچی، بابا جمال ،حکیم اظہر وارثی، واصل بہرائچی واصف ؔ القادری نانپاروی،ایمنؔ چغتائی نانپاروی ،محسن ؔ زیدی،عبد الطیف زرگر شوق نیپالی، اظہار وارثی، عبرت بہرائچی ،والی آسی لکھنوئی فنا نانپاروی،اثر بہرائچی،شاعر جمالی وغیرہ سے گہرا تعلق تھا ۔

شاگرد

وصفی صاحب کے شاگروں میں حاجی لطیف بہرائچی ،اطہر رحمانی اور فیض بہرائچی کا نام قابل ذکر ہے ۔

تصنیف

وصفی بہرائچی کا صرف ایک مجموعہ کلام افکار وصفی نام سے اگست 1986ء میں فخرالدین علی احمد میموریل کمیٹی لکھنؤاتر پردیش کے مالی تعاون سے شائع ہوا تھا ۔جو آپ کی غزلوں کا مجموعہ تھا ۔

وفات

وصفی بہرائچی کا انتقال 13اپریل1999ء میں شہر بہرائچ کے محلہ قاضی پورہ میں واقع مکان میں ہوا تھا اور تدفن شہر کے مشہور قبرستان عیدگاہ میں ہوئی تھی ۔جس میں عوام کے علاوہ شاعروں اور ادیبوں نے بھی شرکت کی تھی۔

نمونہ کلام

  • 1
قدرت کے کرشمے ہیں یہ ہیں وقت کے حالات سورج کو اب آئینہ دکھانے لگے ذرات
یہ چاند یہ سورج یہ نجوم ارض و سماوات ہیں خلق مگر خالق اکبر کی ہیں آیات
بے واسطہ الفت میں جب آتے ہیں پیامات ہوتے ہیں بہت سخت وہی عسق لمحات
بے سعی عمل ہیچ ہے ہر فکر و تدبر بے معنی و مفہو م غلط حرف و حکایات
وہ اور ہیں حالات بدل دیتے ہیں جن کو ہم صاحب ہمت ہیں بدل دیتے ہیں حالات
  • 2
آگیا لے سیلاب کرم   دیدۂ گریں ا ب تو تھم
ڈھونڈلے ان کے نقشِ قدم   تیرے قدم پر جاہ و حشم
کون کرے گا طے پیہم   راہِ طلب کے پیچ وخم
بھیگی پلکیں آنکھیں نم   اَ تو برس اے ابر کرم
چھیڑ دے ساز عیش و طرب   اٹھ نہ سکے جب بارِ الم
دیکھ کبھی دامن اپنا   دیکھنے والے بیش و کم
  • 3
کیا چیز محبت ہے زمانے کو دکھا دو   دل صاف کرو اتنا کہ آیئنہ بنا دو
تعمیر گلستاں کے لئے کیا ہے ضروری   بھولے ہیں جو یہ بات انھیں یاد دلا دو
معلوم ہوں سب ایک ہی کنبے ہیں افراد   یوں شمع مساوات واخوت کی جلا دو
اب دور نہیں آپ سے کچھ آپ کی منزل   منزل کی طرف ایک اور بڑھا دو
یوں مل کے رہو اہل چمن صحن چمن میں   دشمن کے لئے آہنی دیوار بنا دو
یہ اندرا گاندھی سے سبق ہم کو ملا ہے   فتنہ جب اٹھے کوئی تو طاقت سے دبا دو
وصفیؔ ہے یہی فرض یہی شرط وفا بھی   اس خاک کے ہر ذرے کو گلزار بنا دو
  • 4

شفیع بہرائچیکے بڑے بھائی قادر میاں کے انتقال پر لکھے اشعار قلمی نشخہ

جانتے تھے کہ ایک روز زیر زمیں   ہم کو رہنا ہے تاریک ماحول میں
جاکے حرمین سے اپنے قادر میاں   شمع لے آیے تھے روشنی کے لئے
زندگی ہے تو کچھ کام کی بات ہو   دین ودنیا میں آرام کی بات ہو
موت کی بات مجھ سے اگر پوچھیئے   درس عبرت ہے ہر آدمی کے لئے

حوالہ جات

 


About Wasfi Bahraichi by his pen printed on back side of his book

Haji ShafiUllah Shafi Bahraichi

colour Photo of Haji Shafi Ullah Shafi Bahraichi

colour Photo of Haji Shafi Ullah Shafi Bahraichi

Haji ShafiUllah Shafi Bahraichi

Haji ShafiUllah Shafi Bahraichi was  a Urdu poet from our City Bahraich.

He was born in 1902 in a notable and famous  family of Bahraich.
His Father  Name is Barati Miyan.
His Teachers Name was Riyaz Sitapuri(By letters)  And  Rafat Bahraichi.
He was learn Arabic, Persian and Urdu.
He Was Friend of Shauq Bahraichi , Wasfi Bahraichi,Naeem Ullah Khayali Sb. Ibrat Bahraichi. and many more of bahraich’s poet of his era.
His notable work : many poetry printed in monthly shair from Agra  and chaudhveen Sadi.
He was write many Naat and gazals in Urdu.
Haji Shafiullah  was founder of famous Hotel Sangam Lodge of Bahraich.
He was a Businessman . And Business of Lime Cigarette. BidiMatches and hotel.
His wife name was Maryam.
His  5 Sons And daughters.
His  Death on 06-July-1973 at Bahraich. And  buried in  Hairat Shah Bahraich at father’s side.  
he was great grand father of Me(Juned Ahmad Noor)
حاجی شفیع اللہ شفیع ؔ بہرائچی کی پیدائش 1902ء میں شہر بہرائچ کے محلہ براھمنی پورہ چوک بازار میں حاجی براتی میاں چوناوالے کے گھر میں ہوئی تھی۔آپ کی تعلیم گھر پر ہوئی ۔ آپ شہر بہرائچ کے نامور تاجروں میں شمار ہو تے تھے۔ آپ کی دُکان ادبی محفل کا مقام تھی۔

ادبی سفر

 شفیع ؔ بہرائچی حضرت ریاضؔ خیرابادی ، شوق بہرائچی اور رافعتؔ بہرائچی کے شاگرد تھے۔ حضرت ریاضؔ خیرابادی سے خط وکتابت کے ذریعہ اپنے کلام کی اصلاح کرواتے تھے ۔ آپ کی دُکان پر بہرائچ کے تمام نامور شخصیات کا آنا جانا رہتا تھا ۔ شفیعؔ صاحب بہرائچ سے شائع ہونے والے ادبی رسالے چودھویں صدی کے سرپرست تھے ۔

اہم شخصیات سے رابطہ

شوق بہرائچی اور رافعتؔ بہرائچی کے شاگرد اور دوستوں میں شمار ہوتے تھے۔ کیفیؔ اعظمی جب بھی بہرائچ تشریف لاتے تو شفیعؔ صاحب سے ضرورملنے جاتے تھے۔عبدالرحمن وصفیؔ بہرائچی ،ڈاکٹر نعیم اللہ خاں خیالی، جمال بابا، محسن زیدی، ایمن چغتائی نانپاروی،واصف القادری، اظہار وارثی، بابو لاڈلی پرساد حیرتؔ ،نجم خیرآبادی ، سے آپ کی گہری دوستی تھی۔آپ کی تجارت کا مرکز شہر بہرائچ کی ادبی محفل کا ایک اہم مرکزتھا جہاں پر روز شام کو شعر وسخن کی محفل جمتی تھی۔

Ahsasat-E-Faizادبی خدمات

شفیع ؔ بہرائچی حمد نعت اور غزل پر حاکمانہ قدرت رکھتے تھے۔آپ کا کلام ماہنامہ شاعر آگرہ روزنامہ انقلاب اور ماہنامہ چودھویں صدی بہرائچ کے علاوہ مختلف رسالوں میں شائع ہو تا رہا ہے۔ شفیع صاحب کا کلام قلمی نسخوں کی شکل میں محفوظ ہے۔

نمونہ کلام

قسم خدا کی نہ پایا کہیں شفیعؔ اب تک

جو کیف دے گئی مجھ کوسحر مدینے کی

غزل جناب الحاج شفیع اللہ شفیعؔ بہرائچی

ارے توبہ عذر جفا کروں کبھی ظرف ایسا میرا نہیں   وہ مٹادیں چاہے ابھی مجھے کوئی شکوہ کوئی گلا نہیں
میں سمجھ گیا ہوں کلیم کو ذرا کام عقل سے لیجئے   وہ تمیز جلوہ کریگا کیا جسے ہوش اپنا رہا نہیں
میرا دست آز اٹھا سہی میں سزا کا واقعی مستحق   تو کرم نواز ازل سے تھا مجھے صبر پھر بھی دیا نہیں
تو اٹھا دے پردہ تو دیکھ لوں کسے ہوش ہے تجھے دیکھ کر   ابھی ہر نگاہ ہے مدعی کوئی پردہ جبکہ اٹھا نہیں
میں سمجھ گیا جو ہے کعبہ میں مجھے اتفاق ہے دیر سے   میں فریب جلوہ نہ کھاوئ نگا کوئی اور تیرے سوا نہیں
مجھے ذوق عذر ستم سہی مگر اسکا اتنا ملال کیوں   جو گلہ بھی ہے وہ ہے آپ سے کسی غیرسے تو گلا نہیں
وہ بری کٹے میری زندگی مجھے فکر اسکی نہیں شفیعؔ   وہ بگڑ کے میراکرینگے کیا کوئی بت میرا خدا نہیں

یہ غزل ماہنامہ چودہویں صدی بہرائچ کے شمارہ فروری 1953ء میں شائع ہو چکی ہے۔

 

 

From Diary
From Diary
From Diary
From Diary
From Diary
From  Diary

.

 
From A book published in Bahraich

Dr.Ibrat Bahraichi

 
 

Dr.Ibrat Bahraichi

Dr.Ibrat Bahraichi is senior poet of urdu from our hometown Bahraich.He lives in Nazirpura Bahraich.He served 6 decades in Urdu Adab as poet .His many books are published .
He is also Senior Homeopathic Doctor of Bahraich.
Abdul Aziz Khan”Ibrat Bahraichi” saal wiladat 1927. Zamin Ali Khan Aniq Bahraichi Dr.Ibrat Bahraichi ke par dada the, jo Aness Lucknawi ke shagird the. Dr.Naimullah Khan khayali sb. aur Abdur Rahman Khan Wasfi Bahraichi Janab Ibrat Bahraichi ke chacha the Ibrat Bahraichi Hazrat Nashsoor Wahidi ke shagird hai ab tak 46 kitaabe shaya ho chuki hai Dr. Ibrat sb Hazrat Jigar Muradabadi ke sath barso rahe.Jigar sb se aap ke bahut gahray rishte rahe. Unka qayaam Nazirpura Bahraich main. Wo ek Senior Homeopathic Doctor bhi hain. Mobile No. 09919514561
Dr. Ibrat Bahraichi by Juned Ahmad Noor ©
image
Dr. Ibrat Bahraichi  on His Clinic By Juned Ahmad Noor ©

Juned Ahmad Noor with Dr.Ibrat Bahraichi on his home

Juned Ahmad Noor with Dr.Ibrat Bahraichi on his home

Izhar Warisi

اظہار وارثیؔ کی پیدائش21 نومبر، 1940ء میں حکیم اظہر وارثی کے یہاں ہوئی۔ آپ کے والد کا نام حکیم اظہر وارثی اور والدہ کا نام کنيز سکینہ تھا۔ اظہار صاحب کے دادا حکیم صفدر وارثی اور والد حکیم اظہر وارثی شہر کے مشہور معالجین میں شمار ہوتے تھے۔ حکیم صفدر صاحب حاجی وارث علی شاہ کے مرید تھے اور حاجی وارث علی شاہ پر ایک کتاب لکھی جس کا نام جلوہٗ وارث ہے۔ یہ کتاب فارسی میں ہے۔ اظہار صاحب کےوالد حکیم اظہر استاد شاعروں میں شمار ہوتے تھے۔ اظہار صاحب سرکاری ملازمت سے سبکدوش ہوئے ہیں۔آپ کی ایک خاص بات ہے آپ صرف شعر لکھتے ہیں کسی مشاعرہ میں پڑھنے نہیں جاتے۔

ادبی سفر و خدمات

آپ ایک اعلیٰ درجے کے شاعر ہیں۔ آپ اردو شاعری میں نئے نئے تجربات کرنے کے لیے مشہور اور معروف ہیں۔ آپ نے اردو شاعری کی تمام اصناف میں اپنے کلام کا جادو بکھیرا اورکئی نئ قسمیں ایجاد کیں ۔ آپ نے 11 اصناف میں شاعری کی ہے۔ 1) غزل 2) نظم، نظم کی مشہورقسمیں ہیں (ا) پابند نظم (ب) آزاد نظم (ج) معرا نظم (د) نثری نظم۔۔ 3) رباعی 4) قطعات 5) ثلاثی 6) ماہئے 7) ہائکو 8) دوہے 9) بروے 10).سانیٹ (14مصرعوں کی نظم انگرزی میں ہوتی ہے.) 11) ترایلے (یہ فرانسیسی زبانمیں 88 مصرعوں کی ہوتی ہے)۔

پروفیسر مغنی تبسم اظہار وارثی کے بارے میں لکھتے ہے کہ

اظہار وارثی جدید دور کے ایک اہم نمائندہ شاعر ہیں۔انہوں نے نظم ،غزل،رباعی،قطعہ،دوہا،ماہیا،ثلاثی،ہر صنف میں طبع آزمائی کی ہے اور ان میں پر صنف کو کامیابی سے برتا ہے اور اس کا حق ادا کیا ہے۔اظہار وارثی ایک باشعور اور حساس فن کار ہے ۔اپنے ملک کے سماجی اور سیاسی حالات کے علاوہ عالمی مسائل پر ان کی گہری نظر ہے۔ان حالات اور مسائل پر کبھی بہ راہِراست اور کبھی استعاروں اور کنایوں میں اپنے خیالات اور جذبات کا اظہار کرتے ہیں ۔جن نظموں میں بہ راہِ راست خیالات اور جذبات کا اظہار کیا گیا ہے ان کو احساس کی شدت نے اثر انگیز بنا دیا ہے۔ اظہار وارثی کی اس نوع کی نظموں میں ’سوچ‘،’دشمنی کیوں‘،’دیوار‘،’جڑواں نظمیں ‘،’وعدوں کاموسم‘،اور ’میں نہیں جانتا‘،’بچے مفلس‘کے قابل ذکر ہیں۔

 

اظہار وارثی صاحب کے ساتھ اثر بہرائچی

پروفیسر قمر رئیس اظہار وارثی کے بارے میں لکھتے ہے کہ

اظہار وارثی کے موضوعات اور سروکارو ں کا دائرہ بہت وسیع ہے۔اس سے اہم بات یہ ہے کہ اظہار وارثی کی تخلیقی سوچ روایتی شاعری کے رموز علائم پر اکتفا نہیں کرتی بلکہ ہر تجربہ کی مناسبت سے نئے شعری اظہارات اور علائم تراشتی ہے اور اس طرح اپنے اسلوب کی ایک نئی پہچان بنانے کا جتن کرتی ہے۔ ؂

حدود جاں میں بگولا سا ایک اٹھتا تھازمیں پہ رہتے ہوئے آسماں سے رشتہ تھا
مجھی میں گم تھا کہیں روشنی کا وہ بادلتمام شب جو مرے دشت جاں پہ برسا تھا
کھلے تو ٹوٹ پڑیں ہر طرف سے کشتی پرچھپے ہوئے کئی طوفان ،بادبان میں ہیں
جہاں میں اپنی حیات کیا ہے ثبات کیا ہےشجر سے ٹوٹا جو کوئی پتا تو میں نے جانا

اظہار وارثی کے اشعار میں داخلی اور خارجی حقائق کی ترسیل کا اہم وسیلہ ایک روشن رمزیاتی فضا ہے جس میں ہلکا ساابہام بھی قاری کی تخیل کو متحرک کرکے معنوی گر ہیں کھولنے پر اکساتا ہے۔ان میں بعض جدید ی شعرا کی طرح ایشی تجریدی کیفیت نہیں ہوتی جو شعر کو گورکھدھندہ بنا دے۔اسی طرح جذبہ واحساس کی پیکرتراشی میں بھی اظہار وارثی کے یہاں ایک خاص تازگی اور طرفگی کا احساس ہوتا ہے۔

اسوچ کا گھر مہک رہا ہے ابھیجیسے آکرکوئی گیا ہے ابھی
ایاد ماضی آج کاغم کل کا خوابسوچ کا اک سلسلہ ہے اور میں

اہم شخصیات سے رابطہ

پروفیسر قمر رئیس، پروفیسر مغنی تبسم حیدرآباد، پروفیسر وہاب اشرفی پٹنہ، پدم سری شمش الرحمن فاروقی، پروفیسر سید امین اشرف علی گڑھ مسلم یونیورسٹی نے آپکی کتابوں پر تبصرے لکھے۔ شوق بہرائچی، رفعت بہرائچی، وصفی بہرائچی، شفیع بہرائچی، جمال بابا،عبرت بہرائچی، محمد نعیم اللہ خیالی، محسن زیدی، ساگرمہدی،اثر بہرائچی،ایمن چغتائی نانپاروی،واصف القادری،لطیف بہرائچی،اطہر رحمانی نعمت بہرائچی واغیرہ آپ کے ہمعصراور ساتھیوں میں ہیں۔

اعزازات

اردو اکادمی اترپردیش، انجمن ترقی پسند مصنفین نے آپ کو اعزازات اور اسناد سے سرفراز کیا ہے۔ ڈی۔ایم۔بہرائچ اور دیگر ادبی تنظیموں نے بھی آپ کو اعزازات اور سند سے سرفراز کیاہے۔ آپ کا جشن بھی منایا گیا، 9 جون 1979کو نگر پالیکا بہرائچ کے ہال میں جس میں ہندوستان کے نامور شعراء نے شرکت کی تھی۔ خاص مہمانوں میں حسرت جے پوری، غلام ربانی تاباں، خمار بارابنکی، معین احسن جذبی، ناظر خیامی، ہلال سیوہاروی، ایم.کوٹہوری راہی اور بیگم بانو دراب وفائ وغیرہ تھے۔ کیفی اعظمی صاحب کو بھی شرکت کرنی تھی پر فالج ہونے اور ڈاکٹروں کےمنع کر دینے کی وجہ سے شرکت نا کر سکے تو اپنے پیسے لوٹادیئے۔ پروگرام کی نظامت ثقلین حیدرکلکتہ نے کی تھی۔

 

اظہار وارثی کے اعزازات

 

اظہار وارثی کی کتاب کی رسم اجرا دہلی غالب اکادمی میں پروفیسر قمر ریئس اور ڈاکڑ سہیل احمد صدیقی

نمونہ کلام

میں سمندر ہوں میری سمت ہے ندیوں کا سفرتم نے دیکھا ہے کہیں مجھ کو بھی آتے جاتے

دوہے

شاخ شاخ چھم چھم کرے پروہ کی پاذیبپیڑ پیڑ کے سر چڑھا برکھا رت آسیب
انسانوں کے بیچ کیسا یہ سنجوگشیشے کے کچھ آدمی پتھر کے کچھ لوگ
ذات پات پوچھے نہیں دیکھے رنگ نہ روپچاند لٹاي چاندنی سورج باٹے دھوپ

لوک غزل

اظہار وارثی بہرائچی

میٹھی بانی بول کبیرا

کانوں میں رس گھول کبیرا

چھپے ہوئے ہیں اصلی چہرے

چٹرھے ہیں سب پر خول کبیرا

آج کی باتیں آج کے وعدے

ڈھول کے اندر پول کبیرا

بند ہر اک دھنوان کی مٹھی

خالی ہر کشکول کبیرا

دشمن کے شبد انگارے بھی

اپنےگلوں میں تول کبیرا

حوالہ جات

 

روزنامہ ہندوستان میں شائع ارٹیکل کے مطبوعات برائے اردو ادب اور بہرائچ

Another Legendry Poet of Our City
Bahraich Izhar Warsi
Izhar Warsi is born on 21/11/1940
in the house of Hakeem
Mohmmad Azhar Warsi.His
father and His teacher is
Hakeem Mohammad Azhar
Warsi.
Izhar Warsi retired from Health
Deparment.He is another legend
and senior poet of Urdu of
Bahraich City .He lives in Mohalla
Brahamnipura Near Chitrshala
Talkies Bahraich.His Mobile no.is
09454896282
His 4 Books are published.
1.Kabootar Sabz Gumbad ke
2.kisht-e-Khayal
3. Soch ki Aanch
4.Boond Boond Shabnam
5.Shab-e-Tanhai Ka Chand
(Forthcoming).

Izhar Warisi By FaranJuned

Izhar Warsi By FaranJuned

Juned with Izhar Warsi and Asar Bahraichi

Juned with Izhar Warsi and Asar Bahraichi

Shauq Bahraichishauq bahraichi
برباد گلستا کرنے کو بس ایک ہی الو کافی ہے ،

ہر شاكھ پہ الو بیٹھیں ہیں انجام اے گلستا کیا ہوگا
Syed Riyasat Husain Shauq Bahraichi is legendry poet from Bahraich .he was born in mohalla Saiyyadwara Faizabad.

*****Mohammad Hasnain*****-

Mohammad Hasnain of Bahraich

Mohammad Hasnain of Bahraich

Mohammad Hasnain is leading translator from Urdu/Hindi to English and English to Urdu/Hindi of Bahraich .He is born in the house of Late Ameer Baksh on 2,July 1952 at Mohalla Chhawni (Imam Bara) Bahraich. He is Graduate (B.A.)from Kisan Digree College Bahraich.
Retired from post of Senior Administrative Officer (S.A.O.)
Civil Court Bahraich on 31, July 2012.
Notable Translating Works by Mr.Hasnain :
1.Yadoon Ki Saughat (collection of Haiku poetry by Mr. Faraz Hamidi and translated by Mohammad Hasnain Sb. from Urdu to English ).
2.Boond Boond Shabnam(Poety Collection By Izhar Warisi and translated by Mr. Hasnain from Urdu To English).
3.Majnu ki Awlaad (Forthcoming).

Juned Ahmad Noor with Mohammad Hasnain Taken with Lumia Selfie

Juned Ahmad Noor with Mohammad Hasnain Taken with Lumia Selfie

Cover Page of Yaadon Ki Saughaat of Mr. Faraz Hamidi Translated by Mr. Mohd. Hasnain

Cover Page of Yaadon Ki Saughaat of Mr. Faraz Hamidi Translated by Mr. Mohd. Hasnain

*******Mohsin Zaidi*******
image
Mohsin Zaidi (1935 – 2003) was an
Urdu poet ( ‘Shayar’ ) who used to
write by the pen name ‘Mohsin’.
Saiyed Mohsin Raza Zaidi ( Urdu:
ﺳﯿﺪ ﻣﺤﺴﻦ ﺭﺿﺎ ﺯﯾﺪﯼ ) was born in
Bahraich , a city in the state of
Uttar Pradesh in India on 10 July
1935, to parents, Saiyed Ali Raza
Zaidi and Sughra Begum. He died in
Lucknow on 3 September 2003.
Education
He had his early schooling in
Pratapgarh , Uttar Pradesh – Islamia
School (1940 – 1942); K. P. Hindu
High School (1943 – 1948);
Government High School (1949 –
1950). He did his senior school
from Maharaj Singh Inter College,
Bahraich, Uttar Pradesh
(1951-1952). He did his Bachelor in
Arts from Lucknow University , in
English Literature, History,
Economics (1953-1954). He got his
Masters in Economics from
Allahabad University (1955-1956).
Occupation
He joined the Indian Economic
Service in 1956 and worked with the
Government of India till his
retirement in 1993.
Career
Held many positions with the
Central Government in ministries of
Chemicals & Fertilizers, Labour,
Agriculture; and in the Planning
Commission. He retired as a
‘Senior Economist’ in the Senior
Administrative Grade of Joint
Secretary. As part of government
assignments he toured countries
like Japan, Singapore, Hong Kong,
Taiwan, Indonesia, Malaysia,
Thailand and Algeria.
Poetic Life
He started writing Urdu poetry in
1950 at the age of 15 while still in
high school in Pratapgarh. Initially
he was impressed by Naazish
Pratapgarhi, a young progressive
writer who was emerging as a
prominent poet on the local literary
scene. However his major
inspiration came from the works of
classical poets like Mir Taqi Mir,
Momin Khan Momin, Mirza Ghalib ,
Haider Ali Aatish , Mir Anis, Daagh
Dehlvi and Mir Dard . Among the
neo-classical and modern poets his
favourites were Allama ‘Iqbal’ ,
Raghupati Sahay ‘Firaq’ Gorakhpuri ,
Faiz Ahmed ‘Faiz’ , and ‘Jigar’
Muradabadi.
Poetic Style
Mohsin Zaidi was a poet of ghazals.
Some critics regard him closer to
the classical tradition of Urdu
poetry, some feel he was influenced
by the progressive writers
movement; while others view him
as a modernist Urdu poet. Though
his style adhered to the traditional
Urdu poetry, his poetic ideas were
modern and progressive. He would
put his thoughts in plain words and
his simple poetic style touched the
hearts of the readers.
Renowned progressive poet of Urdu,
Kumar Pashi said that Mohsin Zaidi
was among the few poets who used
the perfection of diction and
pleasantness of narration of
traditional ghazal to express new
ideas.
Makhmoor Saeedi, a contemporary
of Mohsin Zaidi and himself a poet
and Urdu critic, wrote that “Mohsin
Zaidi’s language is not decorative
but simple, and to create
impression through his simplicity is
his special skill. This skill is not
easy but Mohsin Zaidi has a
mastery over it”.
According to another noted Urdu
critic, Dr. Shaarib Rudawlvi,
“…..Mohsin’s ghazals had
freshness of thought, intense
feelings, and dexterity of
expression. One aspect of his
poetry is spontaneity; and he has
got a flow of ideas that presents one
image after another in the form of
his ashaar……” Mohsin Zaidi’s
poetry witnessed many literary ups
and downs of his times and the rise
and fall of many movements. But in
every age he preserved his unique
poetic style. And this is his greatest
quality.”
Mohsin Zaidi’s “poetic character
had been weaned on these elements
– integrity of character, opposition
to all tyrannical powers, belief in
retribution for one’s actions, search
for virtues in human nature, belief in
the victory of truth. These elements,
form the backdrop for his poetic
works”.
The study of economics had its
influence on his poetry, especially
issues like economic disparity;
uneven distribution of wealth; and
the economic dominance of
developed countries. Mohsin Zaidi
was not only a poet but a social
commentator.
While on one hand his poetry deals
with the harsh realities of life, on
the other there are those beautiful
and delightful moments of life that
represent the enchanting and
heartwarming form of poetry which
ghazal is known to be in Urdu
literature and which has been the
tradition of ghazal.
The doyen of Urdu poetry, Firaq
Gorakhpuri , who was a teacher of
Mohsin Zaidi in Allahabad
University, said in his written
comment on Mohsin Zaidi’s
ghazals from his first collection of
poems, Shehr-e-Dil (1961) that “….his
ashaar have softness of style,
mellow words and flow of
narrative.”
Poetic Works
• Shehr-e-Dil (1961)
• Rishtah-e-Kalaam (1978)
• Mataa-e-Aakhir-e-Shab (1990)
• Baab-e-Sukhan (2000)
• Jumbish-e-Nok-e-Qalam (2005)
Awards
He got awards from Urdu
Academies for his works, the last
being from Uttar Pradesh Urdu
Academy for his last compilation of
ghazals – ‘ Jumbish-e-Nok-e-Qalam ’
which was published posthumously.
Personal life
Mohsin Zaidi lived in Delhi for
nearly four decades before settling
down in Lucknow after retirement.

Source: wikipedia

***Shaikh Raheem Jarwali An Awadhi Poet***
Hindi me Sufi Kavya Premakhyaan ka janam purva madhyakall me hua tha.sufi kavya parampara sanvat 1974 means aadhunik kaal ke Diweddi yug tak chitput dikhai deti hai.isi parampra ka partinidhitwa Bahraich zile ke Jarwal Niwasi Shaikh Raheem ne kiya.we premaakhyaan ke kavi the.

Shaikh Raheem ka Janam Jarwal me hua tha.unke pita ka naam Yaar Mohammad tha.woh Urdu,Persian aur Hindi bhasa ke ache Jaankaar the. Malik Mohd Jaysi ki “PADMAWAT” aur Qasim Shah ke “HANSH JAWAHIR” jaise sufi prem Kavyo se prerit ho kar unhone “BHASA PREM RAS” naam ke granth ki rachna ki thi yeh unka charchit Sufi Premaakhyan Kavya hai jiski rachnakall 1915 AD. hai iska parkashan 1940 me Lucknow se hua tha.
Kavya ke prarambh me unhone apna vistrit parichay dete hue likha hai ki “Naav Raheem more jag jana ,Jarwal Nagar janam Ashtana. Jaana chaho jaat hamari,hanfi mata shaikh Ansari,pito kar Yaar Mohammad naav, wo Nabi Shaikh kahe sab Gaun”.
Unhone apni rachnye doha caupai tha chando me awadhi bhasa me ki hai.acharya ParshuRam Chaturvedi ne sufi kavya sangrah aur Dr.Sarla Shukla ne Jaysi ke parvarti Sufi Kavi me Unki Vistrit charcha ki hai.
Shaikh Raheem Bhasha Prem Ras me likhte hai “adward satay jag jana , bhyo sarag mahn jin kar thana.
pancham George tehi sut niyaaycvu, jagma kirat jin kar chaiy.
Tin mara san uniis issa,warin katha sumiri jagdisha.

Shaikh Raheem An Awadhi Poet From Bahraich

Shaikh Raheem An Awadhi Poet From Bahraich

رسوا پیاگ پوری کا اصلی نام رسول بخش تھا اور والد کا نام بھگو تھا۔رسوا پیاگ پوری کی پیدائش 1880ء میں پیاگ پور ضلع

رسوا نے عربی اور اردو کی تعلیم حاصل کی تھی۔شعر و شاعری کا بے حد شوق تھا۔اور راجہ پیاگ پور کی جانب سے منعقد مشاعروں و دیگر پروگراموں میں ان کی شرکت ضرور ہوتی تھی۔ رسوا پیاگ پوری کا کوئی شعری مجموعہ شائع نہیں ہوا ۔بہرائچ کے مشہور ادیب اور شاعر شارق ربانی کی تحقیق سے ان کا نام دنیا ئے اردو ادب میں دوبارہ زندہ ہوا جس کے لئے شارق ربانی نے کافی مشقت کی اور رسوا پیاگ پوری کے اشعار اور تفصیلات یکجا ہوئی اور 2014ء میں مشہور ہندی اخبارہندوستان میں اردو ادب اور بہراائچ کے نام سے ایک سلسلے میں انکی تفصیلات شائع ہوئی جسے بہرائچ کی ادبی دنیا میں خوب داد و تحصین ملی۔ شارق ربانی نانپاروی کا کہنا ہے

رسوا پیاگ پوری کے اشعار حسن و بیان کا دلکش نمونہ ہیں ان کے کلام میں وہ تمام خوبیاں موجود ہیں جو ایک کامیاب شاعر کے لئے ضروری ہوتی ہے۔

رسوا پیاگ پوری نے غڑلیں اور نعتیں وٖٖغیرہ زیادہ لکھی ہیں ۔رسوا پیاگ پوری کانگریس پارٹی سے بھی جڑے تھے جسکی وجہ سے راجستھان اور اڑیسہ کے شابق گورنر سردار یوگیندر سنگھ کے نزدیکی تھی اور انکے شاتھ بھی پروگراموں میں شرکت کرتے تھے ۔رسوا نئی پوشاکوں کے بہت شوکین تھے اور جب بھی پوشاک خریدنے لکھنؤ جاتے تھے،تو انہیں یہ بھی خیال نہیں رہتا تھا کہ واپسی کا کرایہ بچا ہے کہ نہیں ۔جو بھی پوشاک پسند آجاتی اسے خرید لیتے تھے جس کی وجہ سے انہیں کئی بار کافی پریشانوں کا بھی سامنا کرنا پڑا ۔

رسوا پیاگ پوری زندگی کے آخری دنوں میں گھرگھوپور ضلع گونڈہ چلے گئے تھے ۔جہاں 1972ء میں92سال کی عمر میں ان کا انتقال ہوا ۔اور وہیں گھرگھوپور کے مہوا میں سپرد خاک کیا گیا۔

نمونہ کلام

1.

محمدؐ کا نام لیتے ہیں اچھے اچھے دنیا میں ان کے غلام اچھے اچھے
سناتے ہیں جب نعت محفل میں رسواؔ ہیں پڑھتے دورودسلام اچھے اچھے

2.

مل کے سرکار کے تلوں سے جبیں آج کی رات نازاں تقدیر پر ہے عرشیں آج کی رات
پورا ارمان قدم بوس نہ ہوگا جب تک رسواؔ ٹلنے کو نہیں در سے یہں آج کی رات

Asar Bahraichi اثر بہرائچی

پیدائش سید مبشر حسین1- اکتوبر1946ءمحلہ چکی پورہ چھوٹی بازارشہربہرائچاتر پردیشبھارت
پیشہ سرکاری ملازمت سے ریٹائر
زبان اردو
قومیت بھارتی
شہریت بھارتی
تعلیم ہائی اسکول
مضمون نعت ،غزل
شریک حیات عقیلہ خاتون
رشتہ دار اظہار وارثی
WP_20160406_13_47_07_Pro

Asar Bahraichi in 2016

سید مبشر حسین اثؔر بہرائچی کی ولادت شہر بہرائچ کے محلہ چکی پورہ چھوٹی بازار میں سید عنایت حسین صاحب کے گھر میں 01- اکتوبر1946ءکو ہوئی ۔آپ کی والدہ کا نام محترمہ مسلمہ خاتون تھا۔ اثر صاحب نے ہائی اسکول تک تعلیم حاصل کی ۔اثر صاحب جب ہائی اسکول میں تھے تبھی آپ کے والد کا انتقال ہو گیا جس کے سبب آپ ہائی اسکول تک ہی تعلیم لے پاے او ر 1964 میںسرکاری ملازمت اختیار کر لی اور ڈی۔ایم۔آفس میں ۔سن 2006ءمیں آپ ملازمت سے ریٹائر ہوئے۔
ادبی خدمات
اثر بہرائچی کو بچپن سے ہی شاعری کا شوق تھا۔ آپ کے چچا جناب حکیم محمد اظہر وارثی صاحب شہربہرائچ کے مشہور حکیم ہونے کے ساتھ ایک مشہور استاد شاعر بھی تھے اور حکیم اظہر صاحب نے ہی آپ کو اثر کا تخلص دیا اور آج آپ اثربہرائچی کے نام سے پوری ادبی دنیا میں مشہور ہے ۔اثر بہرائچی کے استاد حکیم محمد اظہر وارثی صاحب تھے، حکیم اظہر صاحب کے انتقال کے بعد آپ نے جناب اظہار وارثیؔ سے سرف تلمذ حاصل کیا جو آج بھی حاصل ہے۔ اثر کا ادبی صفر 1969میں ملک محمد جائسی کی سرزمین جائس رائے بریلی کے ایک مشاعرے سے ہوا،اور اب تک ملک و بیرون ملک میں سیکڑوں مشاعرے پڑھ چکے ہے۔آپ نے 3بار کاٹھ مانڈوں میں 1969,1970,اور1972کے مشاعروں مین شرکت کی اور نیپال کے بادشاہ مہندرا ویر وکرم شاہ دیو اور ہندوستانی صفیر کے سامنے آپنے کلام کو پیش کیااور داد تحسین حاصل کیا ۔اسکے علاوہ سن 2010میں امریکہ کے مختلف شہروں جیسے نیویارک،ہﺅسٹن،سیکاگو،نیو جرسی،کیلی فورنیا وغیرہ میں تقریبن 12مشاعروں میں سرکت کی اور

WP_20160406_13_48_37_Pro

Asar Bahraichi With Izhar Warsi

سامعین کو اپنے کلام سے اثر انداز کیا ۔ آپ کا کلام ملک زادہ منظور احمد کے رسالے امکان میں شائع ں شائع ہو تا رہا ہے۔
ادبی سخصیات سے رابطہ
اثر صاحب کا ادبی صفر چاردہائیوں پر مشتمل ہے۔اس دوران آپ کا اپنے وقت کے تمام بڑے ادیبوں اور شاعروں سے رابطہ رہا۔جس میں فراق گورکھپوری،نشہور واحدی،شکیل بدایونی،مجروح سلطان پوری،خمار بارہبنکوی،کیفی اعظمی،جمال بابا  بہرائچی،ڈاکٹر نعیم اللہ خیالی بہرائچی،شفیع بہرائچی،محسن زیدی،شوق بہرائچی،عمر قریشی گورکھ پوری،عبرت بہرائچی،ملک زادہ منظور احمد،ساحر لدہیانوی،فنا نظامی،دل لکھنوی،انورمرزاپوری،خاموش غازی پوری،اجمل سلطان پوری،ساغر مہندی بہرائچی،رزمی صاحب،وصفی بہرائچی،وغیرہ سے آپ کے قریبی تعلوقات رہے۔اظہار وارثی صاحب کی سرپرستی میں آپ کی شاعری پرواز پر ہے۔
ادبی کاویشے
اثر بہرائچی صاحب کے دو مجموعہ کلام اب تک منظر عام پر آئے اور داد تحسین حاصل کی۔پہلا مجموعہ نعتیہ مجموعہ ہے جس کا نام ”قلوب“ ہے۔ جبکہ دوسرہ مجموعہ غزلوں اور نظموں پر مشتمل ہے اور اس مجموعہ کا نام ”حرف حرف خوشبوں“ ہے ۔
انعامات
اثر صاحب کو بہت سی ادبی تنظیموں نے انعامات سے نوازا ہے جون پور کی ایک تنظیم نے آپ کو ’منظوم‘ اوارڈ سے سرفراج کیا ہے۔ ضلع بہرائچ کے ڈی۔ایم۔ صاحب نے بھی انعامات سے نوازا ہے۔آل انڈیا ریڈیو لکھنوءاور دور درشن لکھنوءسے آ پ کئی بار اپنا کلام پڑھ چکے ہے۔

نمونہ کلام

ممتا سے مہکی مہکی ہوائیں چلی گیئں بیٹا پکارنے والی صدائیں چلی گیئں
بخشے گا کون مر ہم زخم جگر اثرؔ گھر سے ہمارے ماں کی دعائیں چلی گیئں

شارق ربانی  Shariq Rabbani

20161128_131749

Juned Ahmad Noor With Mr,Izhar Warsi and Shariq Rabbani of Nanpara

شارقؔ ربّانیکی ولادت30 جولائی، 1963ء کو نانپارہ میں ہوئی۔آپ کے والد کا نام ٹھاکر عبدالّرب خاں صاحب اور والدہ کا نام محترمہ ملکہ ثریا صاحبہ تھا- ان کی تعلیم ایم۔کام،ایم۔اے(اردو) ہے۔ آپ کے آباء اجداد 1857ء کی غدر کے دوران ضلع بارہ بنکی سے نانپارہ آئے تھے۔ اور بعد میں ریاست نانپارہ میں اہم مقام حاصل کیا ۔شارق صاحب کے والد کو شعر و شاعری کا شوق تھا اور اردوفارسی و انگلش زبان پر عبور حاصل تھا ۔

ابتدائی حالات

شارق کی ابتدائی تعلیم گھر پر ہوئی پھر اسکول میں داخلہ لیا اور جنتا انٹر کالج نانپارہ سے ہائی اسکول کیا ،جنتا انٹر کالج نانپارہ میں ہی جناب ایاز بیگ ایمنؔ چغتائی جو اردو کے استاد ہونے کے ساتھ ایک اچھے شاعر بھی تھے، سے اردو کی تعلیم حاصل کی ۔سعادت انٹر کالج نانپارہ سے انٹرمیڈیٹ،حلیم مسلم کالج کانپور (کانپور یونیورسٹی) سے بی۔کام ، اودھ یونیورسٹی سے ایم۔کام کا امتحان پاس کیا اور اتر پردیش فارسٹ کارپویشن(U.P.F.CC) میں ملازم ہوگئے۔

ادبی خدمات

شارق کی ادبی زندگی کا آغاز ملازمت کے دوران ہوا۔ شارق نے پیلی بھیت میں قیام کے دوران روہیل کھنڈ یونیورسٹیبریلی سے ایم۔اے۔ (اردو) کا امتحان پاس کیا اور غزلیں لکھنا شروع کیا اور جناب کریمیؔ الاحسانی ؔ مظفرنگر کی شاگردی حاصل کی۔ آپ کی غزلیں ملک کے تمام ادبی ،دینی رسالوں میں شائع ہونے لگیں اور ادبی حلقوں میں پسند کی جانے لگیں۔ شارق نظم اور غزل دونوں میں حاکمانہ قدرت رکھتے ہیں اور انکی غزلیں جذبات اور حالات حاضرہ کی ترجمانی کرتی ہیں انکی غزلوں میں سادگی اور پاکیزگی بھی نظر آتی ہے ۔شارق نے صرف غزلوں سے اپنے خیال کا اظہار نہیں کیا بلکہ نظم،حمد و نعت و منقبت،قطعات سے بھی اظہار کیا ۔ شارق کی منقبتوں میں تصوف کا رنگ بھی ملتا ہے بزرگان دین و اولیا اللہ سے بے پناہ عشق کی جھلک بھی۔ آپ کا ایک شعری مجموعہ ″فکر و فن″کے نام سے شائع ہو کر مقبولیت حاصل کر چکا ہے۔ اس کے علاوہ ایک ناول ″گردش ایّام″ بھی شائع ہو چکا ہے ۔

 اہم شخصیات سے رابطہ

شارق ربّانی انجمن شاہکار اردو اتر پردیش کے بانی اور صدر ہیں ۔ آپ کو اردو زبان اور ادب کی خدمت کے لیے اودھ شری اعزاز و ایمنؔ چغتائی ایوارڈ سے نوازا جا چکا ہے ۔شارق ربّانی بہرائچ اور نانپارہ کے ادبی حلقوں میں مقبولیت کے علاوہ نیپال کے ادبی حلقوں میں بھی ممتاز اہمیت رکھتے ہے۔آپ جناب اظہار وارثی ، شمیم اقبالؔ خاں ، فیض بہرائچی ، رئیسؔ صدیقی بہرائچی ،انقلاب اشرفیؔ نانپاروی ،حاجی عبدالطیف شوقؔ نیپالی محمد امین خیالیؔ نیپالی ،محمد یوسف عارفیؔ نیپالی ، محمد مصطفیٰ احسن ؔ نیپالی اشفاق رسول ہاشمی سرور ؔنیپالی سے آپ کے گہرے تعلق ہیں ۔

نمونہ کلام

شارقؔ اگر چہ گزری ہیں صحرا میں ان کی عمرگلشن میں بھی قیام کیے جا رہے ہیں لوگ
خواب میں وہی ستمگر دیکھا   جس کے نیزے پہ دھرا سر دیکھا
شہر کا ہم نے یہ منظر دیکھا   خوں میں لتھٹرا ہوا گھر دیکھا
نعرہ امن تھا جن کا لوگو   ان کے ہی ہاتھ میں خنجر دیکھا
شعلے نفرت کے ایسے بھڑکے   آگ کی لپٹوں میں ہر گھر دیکھا
یاد ہے اب بھی وہ منظر شارقؔ   خواب میں ایک گل تر دیکھا

حوالہ جات

**************************

 

 

 

Akmal Nazir an Urdu and English Poet

Mohammad Akmal Nazir

 

 

Name ⇒Mohammad Akmal Nazir

Father  ⇒ Mohammad Nazir Khan

Mother  ⇒ .Shahida Begum

Date Of Birth  ⇒ 1972

Birth place⇒ Qazipura South Bahraich

Pen name ⇒ Akmal.

Education ⇒ Post Graduate

Occupation ⇒ Teaching.

Mohammed Akmal Nazir was born on 1972 in Mohalla Qazipura South Bahraich.He had his early education in Modern Mission School (now Mornig Star Acadmy ) Bahraich.He passed his high school and intermediate examination from Azad Inter College bahraich.He obtained his graduate and post graduate degrees from Kisan P.G CollegeBahraich,now Thakur Hukum Singh P.G.College Bahraich.

His father Late Mohammad Nazir khan was a well known literary and religious figure of Bahraich . Akmal Nazir started writing Urdu poetry at the young age of 18 years . He studied Ghalib,Maulana Altaf Husain Hali,Alalma Iqbal etc ,and in the most recent time Faiz Ahmad Faiz,influenced his poetry.Though he has no ustad (Teacher)in Urdu poetry,he excels in writing his verses.He has his own style of poetry,he writes on current affairs,he is thought provoking poet but he does not called him self a poet.

He also composed almost 200 poems on various topics in English. One of his poem’s a humble complaint  is among top five hundred poems of world on PoemHunter . This poem was also selected for the daily project of Overlook Academy of United States of America.

Juned Ahmad Noor With Akmal Nazir
Akmal Nazir with his Sons and Juned Ahmad Noor

*Some example of his urdu poetry*

Tum ko hai gar qubool to haazir hai naqd yeh

Hota nahi hai jaan ka sauda udhaar me

,

Kya jaaniye ki jaan pe dhaata hai kya sitam

Shauq e sukhan wari bhi ghame rozgaar me

Rakh ke qadmo me kisi ke woh kulaah e aabru

Gosha e dil me.n chhupaae shauq e sardaari rha .

Munjamid tha jinki aankho.n me.n tamannao ka khoo.n

Kis qadar dhundhla wahaa.n par khwaab e bedaari raha

Poochhte kya ho hamaare zarf ki ‘Akmal’yahaa.n

Sohbat e aghyaar me.n bhi lahja me’yaari raha.

****A Humble Complaint****

You could have been more polite observing me, 

Your harsh words have left 

An indelible impression, 

Hatred can be won by love alone, 

As one gets relief from 

Scorching heat 

By gentle rain, 

As the sermon of a saint soothes 

The disturbed mind, 

Your words could have healed 

The wounds of my heart, 

For once you touched me, felt me, 

And covered your being with my love, 

As you said, 

You smelt my love and called it red rose, 

What’s happened now? 

Thorns have grown on my lips, 

My being has become the grave of your hatred, 

Is it a diversion 

Or you’re posing to be more sensible?

Advertisements

4 thoughts on “Poets And Writers of Bahraich By Faranjuned

Leave a Reply

Fill in your details below or click an icon to log in:

WordPress.com Logo

You are commenting using your WordPress.com account. Log Out /  Change )

Google+ photo

You are commenting using your Google+ account. Log Out /  Change )

Twitter picture

You are commenting using your Twitter account. Log Out /  Change )

Facebook photo

You are commenting using your Facebook account. Log Out /  Change )

Connecting to %s